بنوں نیوز(عمران علی)خیبر پختونخوا کے تمام ایف آرز اور شمالی و جنوبی وزیرستان کے قبائلی مالکان نے پولیس کی تعیناتی پرحکومت کیساتھ تعاون نہ کرنے کا اعلان کر دیا

بنوں نیوز(عمران علی)خیبر پختونخوا کے تمام ایف آرز اور شمالی و جنوبی وزیرستان کے قبائلی مالکان نے پولیس کی تعیناتی پرحکومت کیساتھ تعاون نہ کرنے کا اعلان کر دیا بنوں ٹاون شپ کے مقام پر منعقدہ قبائلی مالکان اورخاصہ فورس کے صوبیداروں کے مشترکہ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ حکومت فاٹا اور ایف آر ز میں خاصہ دار و لیویز کی جگہ پولیس کی تعیناتی کر رہی ہے جو ہم سے ہماری نیکات چھین رہی ہے حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو پولیس کیساتھ قبائل کسی قسم کا تعاون نہیں کریں گے جرگہ میں ایف آر ڈی آ ئی خان ، ایف آر پشاور ، ایف آر کوہاٹ ، ایف آر لکی مروت ، ایف آ ر بنوں اور ایف آ ر ٹانک سے تعلق رکھنے والے چیدہ چیدہ مالکان اور صوبیدار شریک ہو ئے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے آل فاٹا خاصہ دار لیویز فورس کے چیئرمین سید جلال ، صوبیدار ملک شیر اکبر ، ملک مسلم ایف آر ڈی آ ئی خان ، ملک لائس خان ، ملک نواب خان و دیگر کا کہنا تھا کہ ایک صدی سے بھی پہلے خاصہ داری ہمیں انگریز دور میں ہر خاندان کو ملی تھی ہم نے ڈیوٹی میں کوتاہی کی نہ ہی قربانیوں سے پیچھے ہٹے ہیں تو ہماری خاصہ داری کیوں ختم کی جا رہی ہے ہم پولیس کے خلاف نہیں البتہ پولیس کی تعیناتی سے اداروں کے درمیان تصادم کا خطرہ ضرور ہے خاصہ داری سات خاندانوں پر مشتمل نیکات ہے جبکہ نوکری اور نیکات میں فرق ہے کیونکہ نیکات میں خاصہ دار کی تنخواہ ساتوں خاندانوں پر تقسیم کی جاتی ہے جبکہ پولیس کی تعیناتی سے خاندانوں کے مابین تصادم اور لڑائی جھگڑے پیدا ہوں گے اور یہ خاندان درجنوں اور سینکڑوں میں بھی نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں خاندانوں کی روزگار اورکفالت اس سے وابستہ ہے پورے فاٹا اور ایف آر زکے 28ہزار لیویز اور خاصہ دار فورس کا متفقہ فیصلہ ہے کہ پولیس کی تعیناتی کسی صورت نہیں مانتے ہماری نیکات نظام کو بحال کھا جائے انگریز ، قائد اعظم ، ذوالفقار علی بھٹو ، عسکری قیادت جنرل ایوب خان نے ہماری حیثیت تسلیم کی تھی آج کونسی کمی ہم میں آ ئی ہے کہ ہماری حیثیت کو تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے ہم حلفیہ بیان کرتے ہیں کہ تمام اداروں سے محب وطن ہم ہیں ہم اپنی پیسوں سے یونیفارم ، گاڑی خرید کر عوام کی حفاظت اور حکومت کیساتھ تعاون کر رہے ہیں اور اگر حکومت بالکل پولیس کی تعیناتی میں دلچسپی لیتی ہے تو قبائل کو الگ صوبہ دیا جائے جرگہ مشران نے کہا کہ ہمیں دھرنوں اور عدالت جانے پر مجبور نہ کیا جائے ہمیں اپنی وردی میں اپنے علاقوں کی حفاظت کیلئے آرام سے چھوڑ دیا جائے کیونکہ دنیا دیکھے گی یہ قبائلی وردی میں ملبوس ہو کر اپنا حق مانگ رہی ہے لہذانیکات نظام بحال اور پولیس کی تعیناتی کا فیصلہ واپس لیا جائے ۔

کیٹاگری میں : ہوم

اپنا تبصرہ بھیجیں