بنوں نیوز(عمران علی)پولیس کی ممکنہ تعیناتی احمد زئی و اتمانزئی مالکان نے حکو مت کیساتھ تعاون سے انکار کردیا،خبر کیلئے تصویر کلک کریں

بنوں نیوز(عمران علی)پولیس کی ممکنہ تعیناتی احمد زئی و اتمانزئی مالکان نے حکو مت کیساتھ تعاون سے انکار کر تے ہوئے جرگہ نے فیصلہ کیا کہ 28ہزار لیویز اور خاصہ دار فورس کی جگہ پولیس کی تعیناتی کسی صورت نہیں مانتے خاصہ داری ہمیں ایک صدی سے بھی پہلے نیکات میں ملی ہے حکومت پولیس تعیناتی کا فیصلہ واپس اور نیکات نظام بحال کریں اس سلسلے میں اتمانزئی و احمد زئی قبائل کے مشران اور صوبیداروں کا گرینڈ قاضی فضل قادر شہید پارک میں منعقد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین صوبیدار میجر ملک شیر اکبر خان ،صوبیدار محمد نور ، صوبیدار حفیظ الرحمن ، صوبیدار گل آ بان ، صوبیدار منور خان ، صوبیدار برکت اللہ ، صوبیدار شیر اسلم و دیگر کا کہنا تھا کہ حساس ترین ڈیوٹی جاری رکھنے اور امن کے قیام میں سکیورٹی فورسز کیساتھ شانہ بشانہ قائم رہنے کے باوجود ایک صدی سے بھی پہلے ملنے والی خاصہ داری کیوں ختم کی جا رہی ہے ہم پولیس کے خلاف نہیں لیکن پولیس تعیناتی سے اداروں اور خاندانوں میں تصادم کا خطرہ ہے خاصہ داری سات خاندانوں پر مشتمل نیکات ہے جبکہ نوکری اور نیکات میں فرق ہے کیونکہ نیکات میں خاصہ دار کی تنخواہ ساتوں خاندانوں پر تقسیم کی جاتی ہے جبکہ پولیس کی تعیناتی سے خاندانوں کے مابین تصادم اور لڑائی جھگڑے پیدا ہوں گے اور یہ درجنوں اور سینکڑوں میں بھی نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں خاندانوں کی روزگار اورکفالت اس سے وابستہ ہے پورے فاٹا اور ایف آر زکے 28ہزار لیویز اور خاصہ دار فورس کا متفقہ فیصلہ ہے کہ پولیس کی تعیناتی کسی صورت نہیں مانتے ہماری نیکات نظام کو بحال رکھا جائے آج کونسی کمی ہم میں آ ئی ہے کہ ہماری حیثیت کو تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے ہم حلفیہ بیان کرتے ہیں کہ تمام اداروں سے محب وطن ہم ہیں شرکاء نے فیصلہ کیا کہ 15نومبر کو قاضی فضل قادر شہید پارک میں دو بارہ جرگہ کریں گے جبکہ 20نومبر کو ساتوں ایجنسیوں اور ایف آر ز کا مشترکہ گرینڈ شمالی وزیرستان کی ہیڈ کوارٹر میرانشاہ میں منعقد کیا جائے گااگر حکومت نے نیکات نظام بحالی کا فیصلہ نہیں کیا توپولیس کیساتھ قبائل کسی قسم کا تعاون نہیں کریں گے یہ بھی فیصلہ ہو سکتا ہے کہ پولیس کیلئے داخلی راستوں پر قبائلی رکاؤٹیں کھڑی کریں ۔

کیٹاگری میں : ہوم

اپنا تبصرہ بھیجیں