بنوں نیوز(عمران علی )بنوں میں ایک مرتبہ پھر خناق بے قابو ہوگیا چند ہفتوں میں ایک درجن سے زائد بچے جاں بحق ہوگئے

بنوں نیوز(عمران علی )بنوں میں ایک مرتبہ پھر خناق بے قابو ہوگیا چند ہفتوں میں ایک درجن سے زائد بچے جاں بحق ہوگئے ویکسین کی عدم دستیابی کے خلاف والدین نے بچوں کے ہمراہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال میں احتجاجی مظاہرہ کیا اے این پی کے ڈسٹرکٹ ممبر ملک شیروز خان نے صوبائی حکومت سے ہنگامی بنیادوں پر ویکسین فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تفصیلات کے مطابق ضلع بنوں میں پچھلے سال کی طرح اس سال بھی اس سال بھی خناق کی بیماری نے اپنے پنجے گاڑ لئے ہیں اور وبائی مرض کی شکل اختیار کرلی ہے مرض میں مبتلا بچوں کیلئے ویکسین کی عدم دستیابی کے خلاف ملک عصمت اللہ خان آف نورڑ کی قیادت میں والدین نے بچوں کے ہمراہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال میں احتجاج کیا مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ملک عصمت اللہ خان اور دیگر والدین نے کہا کہ صحت کے شعبوں میں بہتری کیلئے وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت انقلابی اقدامات کررہی ہیں لیکن آج بھی غریب عوام ہسپتالوں میں رل رہے ہیں اور ہسپتال قصاب خانے بن گئے ہیں ڈاکٹر اور ہسپتال کا عملہ ہسپتال کے سرکاری میڈیکل سٹور میں موجود ادویات کے بجائے مہنگی ادویات باہر کے پرائیویٹ میڈیکل سٹوروں سے تجویز کرتے ہیں اور ایکسرے وٹیسٹ کیلئے بھی پرائیویٹ لیبارٹریوں میں بھیج دیتے ہیں جسمیں ڈاکٹروں اور ہسپتال عملے کا کمیشن ہوتا ے انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی ڈیوٹی صبح9بجے سے شروع ہوتی ہے لیکن معمول کے مطابق ڈاکٹر دن 10بجے تک بھی ڈیوٹی پر نہیں آتے ہیں اور اب تو خناق کی وجہ سے خالات مذید خطرناک ہوگئے ہیں کیونکہ خناق کی وجہ سے بچے تیزی سے مررہے ہیں اور اب تک درجنوں بچے خناق کی وجہ سے مرچکے ہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال والے والدین کو زنانہ ہسپتال بھجواتے ہیں تو وہاں سے کبھی ڈسٹرکٹ ہیڈ واٹر ہسپتال بھجواتے ہیں یا پھر ڈی ایچ او آفس بھجواتے ہیں جہاں سے پھر انہیں پشاور ریفر کیا جاتا ہے اور والدین کو فٹ بال بنایا جاتا ہے جس کی وجہ سے والدین کا کافی خرچہ بھی ہوتا ہے جبکہ اسی دوران اکثر بچے بھی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں لہذا انہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان ا ور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت صو بائی وزیر صحت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ بنوں کے ہسپتالوں کا تمام عملہ بنوں سے تبدیل کرکے کسی دوسرے ضلع کے ڈاکٹروں کو بنوں کے ہسپتالوں میں تبدیل کیا جائے اس موقع پر اے این پی کے ڈسٹرکٹ ممبر ملک شیروز خان نے ایم ایس بنوں اور خناق کیلئے فوکل پرسن ڈاکٹر اقبال سے ملاقات کی فوکل رسن ڈاکٹر اقبال نے انہیں بتایا کہ جب ہمارے پاس مریض لایا جاتا ہے تو ہم اسے داخل کرکے ڈی ایچ او آفس چارٹ بھجواتے ہیں جہاں سے پھر ویکسین دیئے جاتے ہیں لیکن اب ڈی ایچ او دفتر میں بھی یہ ویکسین ختم ہوگئے ہیں ،جب ویکسین ہی نہیں تو ہم بچوں کو کیسے داخل کریں،اب تک113بچوں کو علاج کیا ہے لیکن گذشتہ چار دنں سے ویکسین ختم ہے اور اس دوران چار بچے ہمارے ہاں جاں بحق ہوئے ہیں باقی ہسپتالوں میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تداد اس سے الگ ہے اور ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ڈی ایچ او کو یہ فراہم کی جاتی ہے کیونکہ پوری دنیا سے یہ مرض ختم ہوچکا ہے اور صرف کروئیشیا میں ہی یہ ویکسین تیار ہوتی ہے اور پاکستان اور افغانستان میں یہ مرض باقی رہ گیا ہے جبکہ پوری دنیا میں سب سے زیاہ مریض بنوں میں پائے جاتے ہیں اس موقع پر ڈسٹرکٹ ممبر ملک شیروز خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان۔وزیر اعلیٰ خیبر ختونخوا محمود خان،صوبائی وزیر صحت اور سیکرٹڑی ہیلتھ خیبر پختونخوا سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر بنوں کیلئے خناق سے بچاؤ کے ویکسین روانہ کردیں اور بنوں کے بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچائیں کیونکہ یہ مرض ایک بچے سے دوسرے بچوں کو بھی منتقل ہوتا ہے اور اس سے پہلے کی خالات مذید خراب ہوجائے حکومت فوری طور پر اس مرض کے سدباب کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں