(بی بی سی) چین میں ایک روز میں ریکارڈ 97 ہلاکتیں، برطانیہ میں وائرس فوری اور سنگین خطرہ قرار(تفصیلات کیلئے تصویر پر کلک کریں)

افراد کی ہلاکت کی تصدیق اتوار کو کی گئی اور یہ اب تک ایک روز میں اس وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

ادھر برطانیہ میں بھی اس وائرس کے مزید چار مریضوں کی تصدیق کے بعد حکومت نے اسے عوام کی صحت کے لیے ’فوری اور سنگین‘ خطرہ قرار دے دیا ہے۔

چین میں اب تک اس وائرس سے 908 افراد ہلاک ہو چکے ہیں مگر انفیکشن سے متاثر ہونے والے افراد کی یومیہ تعداد اب مستحکم ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا سائنسدان کورونا وائرس کی ویکسین ایجاد کر پائیں گے؟

کورونا وائرس کے علاج میں ابتدائی کامیابی

کیا کورونا وائرس ایک عالمی وبا بن سکتا ہے؟

چین سمیت دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 40 ہزار سے بڑھ چکی ہے جبکہ ایک لاکھ 87 ہزار 518 افراد کی طبی نگرانی کی جا رہی ہے کہ کہیں ان میں کورونا وائرس موجود تو نہیں۔ چینی ڈیٹا کے مطابق 3281 افراد کو علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

چین اور برطانیہ کے علاوہ جاپان میں لنگرانداز اس مسافر بردار بحری جہاز کے مزید 60 مسافروں میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جسے اب قرنطینہ کیا جا چکا ہے۔ اس بحری جہاز کے 3700 مسافروں میں سے اب تک 130 میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ادھر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے وائرس پر تحقیق میں مدد کے لیے اپنی ایک ٹیم بیجنگ روانہ کی ہے۔

پیر کو چین کے نئے قمری سال کی چھٹیوں کے اختتام کے بعد لاکھوں لوگ کام پر واپس لوٹے ہیں لیکن احتیاط کے پیشِ نظر اوقاتِ کار میں تبدیلی کی جا رہی ہے جبکہ دفاتر اور کام کی دیگر جگہوں میں سے بھی ابھی تمام واپس نہیں کھلی ہیں۔

چین میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے چھٹیوں کو 31 جنوری سے آگے بڑھا دیا گیا تھا۔

ہفتے کے اختتام تک کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 2003 کی سارس وبا سے تجاوز کر گئی تھی۔ یہ وبا بھی چین سے پھوٹی تھی اور اس سے سنہ 2003 میں دو درجن سے زیادہ ممالک میں 774 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

افراد کی ہلاکت کی تصدیق اتوار کو کی گئی اور یہ اب تک ایک روز میں اس وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

ادھر برطانیہ میں بھی اس وائرس کے مزید چار مریضوں کی تصدیق کے بعد حکومت نے اسے عوام کی صحت کے لیے ’فوری اور سنگین‘ خطرہ قرار دے دیا ہے۔

چین میں اب تک اس وائرس سے 908 افراد ہلاک ہو چکے ہیں مگر انفیکشن سے متاثر ہونے والے افراد کی یومیہ تعداد اب مستحکم ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا سائنسدان کورونا وائرس کی ویکسین ایجاد کر پائیں گے؟

کورونا وائرس کے علاج میں ابتدائی کامیابی

کیا کورونا وائرس ایک عالمی وبا بن سکتا ہے؟

چین سمیت دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 40 ہزار سے بڑھ چکی ہے جبکہ ایک لاکھ 87 ہزار 518 افراد کی طبی نگرانی کی جا رہی ہے کہ کہیں ان میں کورونا وائرس موجود تو نہیں۔ چینی ڈیٹا کے مطابق 3281 افراد کو علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

چین اور برطانیہ کے علاوہ جاپان میں لنگرانداز اس مسافر بردار بحری جہاز کے مزید 60 مسافروں میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جسے اب قرنطینہ کیا جا چکا ہے۔ اس بحری جہاز کے 3700 مسافروں میں سے اب تک 130 میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ادھر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے وائرس پر تحقیق میں مدد کے لیے اپنی ایک ٹیم بیجنگ روانہ کی ہے۔

پیر کو چین کے نئے قمری سال کی چھٹیوں کے اختتام کے بعد لاکھوں لوگ کام پر واپس لوٹے ہیں لیکن احتیاط کے پیشِ نظر اوقاتِ کار میں تبدیلی کی جا رہی ہے جبکہ دفاتر اور کام کی دیگر جگہوں میں سے بھی ابھی تمام واپس نہیں کھلی ہیں۔

چین میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے چھٹیوں کو 31 جنوری سے آگے بڑھا دیا گیا تھا۔

ہفتے کے اختتام تک کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 2003 کی سارس وبا سے تجاوز کر گئی تھی۔ یہ وبا بھی چین سے پھوٹی تھی اور اس سے سنہ 2003 میں دو درجن سے زیادہ ممالک میں 774 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس نئے وائرس 2019-این کویو کی تشخیص سب سے پہلے چین کے صوبے ہوبائی کے دارالحکومت ووہان میں ہوئی تھی اور اس وسیع و عریض شہر کو ہفتوں سے لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گریبیسس نے سنیچر کو کہا تھا کہ وائرس ابھی بھی ہوبائی میں ہی مرکوز ہے اور پچھلے چار دنوں کے دوران اس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں تھوڑا سا استحکام آیا ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ وائرس کے پھیلاؤ میں کمی واقع ہوئی ہے یا نہیں کیونکہ وبائی امراض اکثر ایک بار پھر تیزی سے پھیلنے سے قبل سست پڑ سکتے ہیں۔

تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ وائرس میں سست روی ان کے لیے اس پر قابو پانے کے لیے کام کرنے کا ایک ’موقع‘ تھا۔

اتوار کو چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ہوبائی صوبے میں سکول کم از کم یکم مارچ تک بند رہیں گے۔

ادھر ہانگ کانگ میں قرنطین کیے گئے بحری جہاز سے مسافروں کو اترنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان مسافروں کے کیے گئے ٹیسٹوں کے بعد ان میں یا اس کے عملے میں کوئی انفیکشن نہیں پایا گیا تھا۔

ورلڈ ڈریم نامی بحری جہاز پر آٹھ مسافروں کے اس وائرس کے شکار ہونے کے بعد آئسولیشن میں رکھا گیا تھا۔

ہانگ کانگ نے سنیچر کو چین سے آنے والے ہر فرد کے لیے دو ہفتوں کے قرنطینہ کے عمل کو لازمی قرار دیا ہے۔ زائرین کو کہا جاتا ہے کہ وہ خود کو ہوٹل کے کمروں یا حکومت کے زیر انتظام مراکز میں الگ تھلگ رکھیں، جبکہ رہائشیوں کو گھروں میں ہی رہنا کا کہا گیا ہے۔

ہانگ کانگ میں نافذ کردہ ان نئے قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ اور قید کی سزا ہو گی۔ ہانگ کانگ میں وائرس کے 26 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
جمعرات کو ایک 60 سالہ امریکی شہری، اس بیماری کا سب سے پہلا تصدیق شدہ غیر چینی، ووہان کے جینیانٹن ہسپتال میں ہلاک ہو گیا تھا۔

برطانیہ میں نئے کیسز
برطانیہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد چار مزید کیسز سامنے آنے کے بعد دگنی ہو کر آٹھ ہو گئی ہے۔

برطانوی حکومت نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرص سے متاثرہ افراد کو طبی حراست میں رکھنے کے لیے نئے اختیارات کا اعلان کیا ہے۔

پیر کو انگلینڈ کے لیے چیف میڈیکل آفیسر پروفیسر کرس وٹی نے کہا کہ ’یہ تمام افراد ان لوگوں سے رابطے میں تھے جو اس سے پہلے برطانیہ میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز ہیں اور ان میں یہ وائرس پیرس میں منتقل ہوا۔ ‘

انھوں نے مزید بتایا کہ انہیں این ایچ ایس کے خصوصی سینٹرز میں منتقل کیا گیا ہے۔

حکومتی ترجمان کا کہنا تھا ’ہم اپنے قواعد کو مضبوط بنا رہے ہیں تاکہ اگر طبی ماہرین سمجھتے ہیں کہ وہ وائرس کو پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں تو ہم متاثرہ افراد کو ان کے اپنے بھلے کے لیے تعاون کے ساتھ تنہائی میں رکھیں۔‘

اب تک برطانیہ میں اس وائرس کے حوالے سے خطرے کو معتدل سطح پر رکھا گیا ہے۔

فرانس کی صورتحال
سنیچر کو فرانس نے اپنے ہوٹی سیوئی خطے میں اس وائرس سے متاثرہ پانچ نئے مریضوں کی تصدیق کی جس میں ایک نو سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔ جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔

فرانس کے وزیر صحت اگنیس بزین کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ پانچوں نئےافراد برطانوی شہری ہیں جو ایک ہی پہاڑی بنگلے میں مقیم تھے۔ ان کی حالت سنگین نہیں بتائی جاتی ہے۔ اس بنگلے میں رہنے والے مزید 6 افراد زیر نگرانی ہیں۔

ڈاکٹر لی وینلنگ کی موت پر پورے چین میں غم و غصہ پایا جاتا ہے ،انھوں نےاس نئے کورونا وائرس کے بارے میں متنبہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ چین کے صوبے ہوبائی کے شہر ووہان میں مریضوں کے علاج کے دوران اس وائرس سے متاثرہ ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات