تاجروں نے پیکنگ میں مصالحہ فروحت کرنے سے انکار کرتے ہوئے خلال سیفٹی فوڈ اتھارٹی کے خلاف طبل جنگ بجادیا

بنوں نیوز(عمران علی)ضلع بنوں کے تاجروں نے پیکنگ میں بند مصالحے فروحت کرنے سے انکار کرتے ہوئے خلال فوڈ اتھارٹی کے اہلکاروں کے مصالحہ منڈی میں داخلے بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بھرپور مزاحمت کا اعلان کردیا ہے اور ڈپٹی کمشنر بنوں،ڈی آئی جی بنوں اور ڈی پی او بنوں کی موجودگی کے بغیر خلال فوڈ اتھارٹی سے مذاکرات سے بھی انکار کردیا ہے مصالحہ منڈی کے تاجروں نے صدر حاجی ملک شیر علی خان کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صدر مصالحہ منڈی حاجی شیر علی خان،سرپرست اعلیٰ آزاد خان،غلام قیباز خان،فرمان نیاز خان،شریف اللہ خان ودیگر رہنماؤں نے کہا کہ بنوں میں ہم انگریز دور سے کھلا مصالحہ فروحت کررہے ہیں معیاری مصالحہ ہونے اور کمیکل سے پاک مصالحہ ہونے کی وجہ سے بنوں کا مصالحہ پوری دنیا میں مشہور ہے اور لوگ اسے تحفے کے طور پر باہر ممالک کے رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی بھجواتے ہیں لیکن خلال فوڈ اتھارٹی کی جانب سے اب کھلے مصالحے کی فروحت کیلئے مارچ تک کی ڈیڈ لائن دیدی گئی ہے اور کہاگیا ہے کہ پیکنگ کے بغیر مصالحہ فروحت کرنے والوں کو جرمانہ بھاری جرمانہ کیا جائیگا جسے بنوں کے تاجر کسی صورت تسلیم نہیں کرتے کیونکہ یہ اقدام پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دور میں اٹھایا گیا تھا لیکن آج بھی پنجاب سمیت پورے ملک میں کھلا مصالحہ فروحت کیا جارہا ہے کیونکہ گاہک اپنی مرضی کے مطابق سائز اور ذائقے کے مطابق مصالحہ خریدتے ہیں اور گاہک کے سامنے ہم رنگ اور ذائقہ انکی مرضی سے تیار کرتے ہیں جبکہ ڈبوں میں پیکنگ کی وجہ سے مصالحے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگا اور ذائقہ بھی ایک ہی جیسا ہوگا مقررین نے کہا کہ ہم شوکیس لگانے کیلئے بھی تیار ہیں لیکن پیکنگ میں مصالحہ کسی صورت فروحت کرنے کیلئے تیار نہیں نہ ہی خلال فوڈ اتھارٹی کا لائسنس بھی تسلیم نہیں کرتے اور ڈپٹی کمشنر،ڈی آئی جی یا ڈی پی او کی غیر موجودگی میں فوڈ اتھارٹی سے مذاکرات بھی نہیں کریں گے جبکہ ہم ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوڈ اتھارٹی کو پولیس سیکورٹی نہ دیں کیونکہ فوڈ اتھارٹی والے پولیس کے ذریعے تاجروں کو ڈرا دھمکا کر بھتہ دینے کیلئے بلیک میل کرتے ہیں انہوں نے اعلان کیا کہ اگر خلال فوڈ اتھارٹی والے زبردستی سے باز نہ آئے تو منڈی میں ان کا داخلہ بند کریں گے اور اپنی دکانیں بند کریں گے ۔