حکومت شوال تحصیل کو فاٹا پیکج میں شامل،اولئی قوم کو داخلے کی اجازت دیں،ایم پی اے ملک شاہ محمد خان

بنوں نیو(عمران علی،عامر خان)تحریک انصاف پی کے89کے ایم پی اے اور قبائلی سردارملک شاہ محمد خان نے اولئی اقوام اتمانزائی کے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شوال تحصیل ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے حکومت فاٹا کیلئے دس سالہ پیکج میں شوال تحصیل کو بھی شامل کرے یہ ہمارے آباء واجداد کی ملکیت ہے اور ہمارے آباء واجداد نے شول کیلئے اپنی جانیں قربان کی ہیں یہاں کے چلغوزے کے باغات ہماری قوم کی ملکیت ہے جی او سی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اسکی حفاظت یقینی بنائیں احمد زئی اور محسود قبائل کے لوگوں کو یہاں جانے اور درحت اور چلغوذے لیجانے سے روکیں جبکہ اولئی اتمانزائی اقوام کو جانے کی اجازت دیں اس سلسلے میں پہلے بھی حکومت اور جی او سی نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے اور آئندہ بھی قوم کے مشران کے ہمراہ ملاقات کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے منڈی بکاخیل میں اولئی اقوام کے گرینڈ قومی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اب وہ دور گزر چکا ہے جب ہر مسئلے کے حل کیلئے قوم سڑکوں پر احتجاج کرتی تھی اب انشاء اللہ اسمبلی فلور پر قوم کی نمائندگی اور حقوق کیلئے آواز اٹھانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے مجھے موقع دیا ہے اور قوم کے حقوق کیلئے اسمبلی کے اندرا ور باہر لڑوں گا سوکے دتہ خیل روڈ کی تعمیر کیلئے کوششیں کررہا ہوں جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے ملک مویز خان نے کہا کہ شوال ہماری پہچان ہے جہاں پر فوج اتمانزائی الئی قوم کو جانے نہیں دے رہی ہے جبکہ احمدزئی اور محسود قبائل کے لوگ ہماری درحتیں اور چلغوزے لیجارہے ہیں اگر فوج نے ان کا راستہ نہیں روکا تو قوم خود اقدام پر مجبور ہوگی اور اپنے باغات اور جائیداد کی حفاظت کیلئے اقدامات کریگی اور کسی بھی قسم کے احتجاج سے گریز نہیں کریگی جرگہ سے خطاب ملک قادر خان،ملک احیاء،ملک پاسین گل ودیگر مشران نے کہا کہ اولئی قوم شوال تحصیل کی حفاظت کیلئے 60رکنی دفاعی دستہ تیار کریگی اور اس تحریک میں اگر کسی کا نقصان ہوتا ہے تو تینوں اقوام اسے پورا کریگی اگر کوئی جاں بحق ہوتا ہے تو تینوں اقوام کی جانب سے 10لاکھ روپے کی امداد کی جائیگی اور اگر کوئی فرد قوم کے فیصلے سے انحراف کریگا تو اس کا گھر مسمار اور 50لاکھ روپے جرمانہ کیا جائیگا اسی طرح اگر کوئی سرکاری آفیسر،ملک یا منتخب نمائندہ قوم کا نقصان کریگا تو ان کیلئے بھی یہی جرمانہ ہوگا شوال تحصیل کیلئے بلڈنگ کا انتخاب 11ہزار عوام کے متفقہ فیصلے کے بعد کیا جائیگا اور اگر کوئی قوم اس تحریک سے پسپائی اختیار کریگی تو انکی جائیداد دوسری قوم کو دی جائیگی یہ بھی مطالبہ کیا کہ شناختی کارڈ پر اولئی اقوام کے افراد کو وزیرستان اور شوال جانے کی اجازت دی جائے اور دتہ خیل روڈ بحال کیا جائے ۔