حکومت چلغوزے پر فی کلو900روپے کسٹم ڈیوٹی ختم کردیں،ملک غلام خان ودیگر مشران کا مطالبہ

بنوں نیوز(عمران علی)حکومت کی عدم توجہ اور کسٹم حکام کی زیادتیوں کی وجہ سے ایشیا کی سب سے بڑی چلغوزہ منڈی ویران ہوئی ہے اور حکومت کو اربوں کا نقصان ہونے کے ساتھ ساتھ چلغوزے کے سوداگر اور چلغوزہ کے کاروبار سے منسلک ہزاروں غریب خاندان فاقہ کشی پر مبجور ہوگئے ہیں فوری طور پر چلغوزہ لانے کی اجازت نہ دی گئی تو اربوں روپے کا چلغوزہ خراب ہوگا اور تاجر کسٹم حکام کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کریں گے ان خیالات کا اظہار شمالی وزیرستان سیاسی اتحاد کے رہنما ملک غلام خان،ملک اصل میر خان،ملک قندھار خان،ملک داؤد خان،ملک میرباز خان،ملک تعویز خان اور دیگر تاجروں نے بنوں میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ چلغوزہ کے پیداواری علاقے شوال،دتہ خیل،مداخیل ودیگرعلاقے اپریشن ضرب عضب کے بعد تاخال کلیئر نہیں کئے گئے ہیں جسمیں اربوں روپے کا چلغوزہ پڑا ہے اور ابھی سیزن ہے اگر حکومت اور آرمی چیف نے چلغوزہ اٹھانے کی اجازت نہ دی تو اربوں روپے کا یہ چلغوزہ خراب ہوجائیگا اسی طرح پہلے 2008/09میں اسلام آباد میں فارمولہ طے کیا گیا تھا جسکے مطابق ایک کلوگرام چلغوزے پر75روپے کسٹم ڈیوٹی لی جاتی تھی اور مارکیٹ میں 900روپے فی کلو چلغوزہ فروحت کیا جاتا تھا لیکن اب کسٹم ڈیوٹی فی کلو گرام75روپے سے بڑھاکر900روپے فی کلو گرام کردی گئی ہے جسکی وجہ سے تاجر افغانستان کے رساتے پاکستان لانے کیلئے بھاری بھر کسٹم ادا کررہے ہیں اور افغانستان نے چائنہ کے ساتھ چلغوزے کا کاروبار شروع کردیا ہے جسکی وجہ سے حکومت کا بھی اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے اور ایشیاء کی سب سے بڑی چلغوزہ مارکیٹ آزاد منڈی بنوں بھی ویران ہوگئی ہے ،انہوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان،چیف جسٹس آف پاکستان،آرمی چیف ،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا،گورنر خیبر پختونخوا اور تمام متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر چلغوزہ پر عائد900روپے کسٹم ڈیوٹی ختم کرکے شوال،مداخیل اور دتہ خیل میں پڑے چلغوزے اٹھانے کی اجازت دیں اور ہزاروں خاندانوں اور تاجروں کو بیروزگاری اور فاقہ کشی سے بچانے کے ساتھ ساتھ قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان سے بچائیں بصورت دیگر تاجر اور قبائلی عوام احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں