ضلع بنوں کے دودھ فروشوں کا حلال فوڈ اتھارٹی کے خلاف اعلان جنگ،آزادی مارچ میں بھرپور شرکت کا اعلان

بنوں نیوز(عمران علی)ضلع بنوں کی تاجر برادری نے حلال فوڈ اتھارٹی کی جانب سے بھاری جرمانوں اور ناجائز چھاپوں کے خلاف عدالت جانے اور آئندہ حلال فوڈ اتھارٹی کے چھاپوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کرنے اور دکانیں بند کرکے شٹر ڈاءون اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا جبکہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف آزادی مارچ میں بھرپور شرکت کرنے اور مارچ کے شرکاء کیلئے مفت دودھ کی سبیلیں لگانے کا اعلان کردیا میلاد پارک بنوں میں احتجاج کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے ضلع جنرل سیکرٹری غلام قیباز خان،انجمن دودھ فروشان یونین کے صدر مجیب خان ،ضلعی جنرل سیکرٹری صفی اللہ خان ودیگر مقررین نے کہا کہ حلال فوڈ اتھارٹی حرام فوڈ اتھارٹی بن چکی ہے اور تاجروں با الخصوص دودھ فروشوں کا جینا حرام کردیا ہے جسکی وجہ سے پنجاب سے دودھ لانے والے ڈیلروں نے بنوں دودھ کی سپلائی بند کردی ہے اور ہمارا کاروبار60فیصد ختم ہوچکا ہے انہوں نے کہا کہ پہلے روزانہ کی بنیاد پر پنجاب سے 15گاڑی دودھ کی سپلائی ہوتی تھی جو کہ اب ایک یا دو گاڑی رہ گئی ہے اور وہ بھی نقصان میں ہے کیونکہ ایک جانب حلال فوڈ اتھارٹی والے دودھ کے سمپل لیکر 50ہزار روپے غریب دکاندار کو جرمانہ کرنے کے علاوہ دکان بھی سیل کرتے ہیں دوسری جانب ہیلتھ والے،لائیو سٹاک والے اور ضلعی انتظامیہ والے دودھ کے سمپل لیتے ہیں اور سب کے سمپلز کا ریکارڈ مختلف ہوتا ہے لہذا ہم ضلعی انتظامیہ کے علاوہ کسی اور کے چھاپے اور سمپل تسلیم نہیں کرتے،مقامی لیبارٹری کے زلٹ مختلف ہوتے ہیں اسلئے سمپل پشاور کے لیبارٹری سے چیک کئے جائیں کیونکہ سب نے دودھ فروشوں کو تجرنبہ گاہ بنایا ہوا ہے مقررین نے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ٹو ہدایت اللہ خان کو بنوں سے تبادلہ منسوخ کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ ہدایت اللہ خان ایماندار آفیسر ہے ان کا تبادلہ منسوخ کیا جائے ورنہ تاجر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے انہوں نے کہا کہ حلال فوڈ اتھارٹی والے دودھ فروشوں کو منشیات فروشوں کے نظر سے دیکھتے ہیں اور انکی وجہ سے یہ کاروبار بدنام ہوچکا ہے اس سلسلے میں ہم نے کمشنر بونں اور ڈپٹی کمشنر بنوں سے بھی ملاقاتیں کیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی لہذا اب ہم مجبور ہیں اور اگر ہ میں حلال فوڈ اتھارٹی سے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے نجات نہ دلائی تو حلال فوڈ اتھارٹی ٹیم کو بازاروں میں نہیں چھوڑیں گے اور تمام تر حالات کی ذمہ داری حلال فوڈ اتھارٹی اور حکومت پر ہوگی کیونکہ چھوٹے دکانداروں کو50پچاس ہزار روپے جرمانہ کرنے اور انکی دکانیں سیل کرنے کا مقصد چار سو کے قریب دکانداروں سے روزگار چھیننے کے مترادف ہے اور اگر حلال فوڈ اتھارٹی والے ہم سے کاروبار چھیننا چاہتے ہیں تو ہم بھی خاموش نہیں رہیں گے اور بھرپور مزاحمت کرنے پر مجبور ہوں گے اس سلسلے میں تاجروں نے عدالت جانے کیلئے بھی وکیل کا بندوبست کیا ہے اور احتجاجی تحریک چلانے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ کمشنر بنوں اور ڈپٹی کمشنر بنوں سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ چونکہ دسمبر2017کے بعد دودھ کی قیمتوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا ہے جبکہ مہنگائی کئی سو فیصد بڑھی ہے لہذا دودھ کی قیمتوں میں بھی مہنگائی کے حساب سے اضافہ کیا جائے ۔