علیم خان کی گرفتاری ٹوپی ڈرامہ احتساب کو نئی شکل دی جا رہی ہے ، حاجی باز محمد خان ایڈووکیٹ

علیم خان کی گرفتاری ٹوپی ڈرامہ احتساب کو نئی شکل دی جا رہی ہے ، علیم خان پر الزامات تھے تو الیکشن کمیشن نے اُن کے کاغذات کیوں منظور کئے تھے ، حاجی باز محمد خان ایڈووکیٹ

بنوں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدرسابق سینیٹر حاجی باز محمد خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ علیم خان کی گرفتاری ایک مرتب کی گئی منصوبہ بندی ہے اور اگلی باری بعض اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاری کا امکان ہے ملکی تاریخ میں یہ پہلی حکومت ہے جس نے چھ ماہ میں تین بجٹ پیش کئے ناتجربہ کار ٹیم نے ملک کو تجربہ گاہ بنا لیا ہے اور پاکستان میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون نافذ ہے پنجاب میں اکثریت نہ ملنے کے بعد پختونخوا میں ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا لیکن حکومت جن بیساکھیوں پر کھڑی ہے وہ کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہیں، ملک میں احتساب کے نام پر انتقامی سیاست کا دور چل رہا ہے، اپوزیشن رہنماؤں کو راستے سے ہٹانے کیلئے احتساب کا نام استعمال کیا جا رہا ہے جس شخص کی والدہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کینسر سے فوت ہو گئی اس کی ہمشیرہ کس طرح وراثت کی دعویدار ہے،احتساب کی نئی شکل میں خود کو فرشتہ اور دوسروں کو ڈاکو ثابت کرنے کی روش اختیار کی گئی ہے علیم خان کی گرفتاری عنقریب کسی مسلم لیگی یا پیپلزپارٹی کے رہنماء پر ہاتھ ڈالنے کے سلسلے کی کڑی ہے اگر علیم خان پر الزامات تھے تو الیکشن کمیشن نے ان کے کاغذات منظور کیسے کئے گئے تھے ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے یونین کونسل شہباز عظمت خیل اور سلیمہ سکندر خیل کی تنظیم سازی اجلاس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ضلعی چیئرمین ناز علی خان وزیر ، شاہ قیاز با چہ ایڈووکیٹ ، حاجی گل نواب خان ، ارشاد خان شمشی خیل و دیگر نے بھی خطاب کیا حاجی باز محمد خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ فاٹا انضمام کیلئے سب سے پہلے ہم نے آواز اٹھائی اور انضمام کی کوششیں بارآور ثابت ہوئیں تاہم وہاں انگریز کے کالے قانون کے خاتمے کے بعد نیا قانون متعارف نہیں کرایا گیا،قبائلی عوام معلق ہیں اور وہ اپنے مسائل کے حل کیلئے سرگرداں ہیں، قبائلی اضلاع میں انتخابات کے حوالے سے کی جانے والی حلقہ بندیوں پر بھی تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ پشاور سے ڈی آئی خان تک ایک صوبائی حلقہ بنا کر الیکشن کمیشن نے متنازعہ کام کر دکھا یا،اُنہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کی بھرپور مخالفت کریں گے اور اگر کوئی بھی کوشش کی گئی تو اے این پی سب سے پہلے میدان میں ہوگی اُنہوں نے پاک افغان تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے،لیکن حکومت کی خارجہ پالیسی ملک کی بقاء اور سلامتی کیلئے نقصان دہ ہے، تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے حکومتی پالیسیاں ملک کے مفاد میں نہیں ہم تنقید برائے اصلاح پر یقین رکھتے ہیں اور متحدہ اپوزیشن کا اتحاد حکومت گرانے کیلئے نہیں بلکہ درست سمت دکھانے کیلئے ہے دریں اثنا ء یونین کونسل شہباز عظمت خیل اور سلیمہ سکندر خیل کیلئے اتفاق رائے سے کابینہ عمل میں لا یا ۔