فرمان اللہ میراخیل کی صدارت میں آبپاشی مسائل اور آبیانہ وصولی کے خلاف اقوام پی کے88کا گرینڈ جرگہ

بنوں نیوز(عمران علی)پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اے ملک پختون یار خان کی موجودگی میں سابقہ امیدوار صوبائی اسمبلی اور قومی وطن پارٹی کے رہنما فرمان اللہ میراخیل کی صدارت میں آبیانہ وصولی،نہروں کی صفائی اور آبپاشی مسائل کے حوالے سے گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جسمیں ایریگیشن حکام کے علاقہ پی کے88کے اکثریتی علاقوں کے مشران نے شرکت کی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے قومی وطن پارٹی کے سابقہ امیدوار صوبائی اسمبلی اور کمیٹی کے صدر فرمان اللہ میراخیل،ملک مقصوم خان اسماعیل خیل،ملک امتیاز خان میراخیل،محمد علی خان،پروفیسر خوب نواز خان،وحید خان،فضل سبخان،حاجی فرید خان،بلقیاز خان،سابق ناظم ثمین جان،کرامت خان،اکبر علی خان،خامد خان مولوی قدرت اللہ ودیگر مشران نے کہا کہ پی کے88کے عوام کا ذریعہ معاش زراعت پر مشتمل ہے لیکن باران اور کچکوٹ پر ڈونگے ڈال کر مختلف علاقوں کے عوام نے ہمارے علاقے کے پانی کو بند کردیا ہے اسی طرح سکارپ ٹیوب ویل خراب پڑے ہیں جسکی وجہ سے ہماری زمینیں اور باغات بنجر ہونے سے زمیندار متاثر ہورہے ہیں دوسری جانب فی کنال آبیانہ وصولی کا فیصلہ ہم پر مسلط کیا جارہا ہے جسے ہم کسی صورت قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں صوبائی حکومت،محکمہ ایریگیشن اور ڈپٹی کمشنر سے قوم کا مطالبہ ہے کہ آبیانہ ٹیکس لگانے کا ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے،خراب ٹیوب ویل مشینیں مرمت کی جائیں اور میرٹ پر ہمارے علاقے کا پانی بحال کرکے ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تباہی سے بچایا جائے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے ایم پی اے پختون یار خان نے کہا کہ ایم پی اے کی کرسی سے زیادہ مجھے قوم کا مفاد عزیز ہے اپنے فنڈز سے میں نے ایری گیشن مسائل کے حل کیلئے ایک کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے اور اے ڈی پی میں آبپاشی کے منصوبے شامل کرنے کے علاوہ وزیر اعلیٰ اور ایریگیشن کے چیف انجینئر سے بھی بات چیت کی ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ خراب ٹیوب ویلوں کو مرمت کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں سولر سسٹم پر بھی منتقل کیا جائے اور تمام نہروں،ویالوں کی صفائی سمیت نہروں اور ویالوں پر تجاوزات خاتمے کیلئے کہا ہے انہوں نے کہا کہ آبیانہ ٹیکس گانے کا فیصلہ تحریک انصاف حکومت کا نہیں ہے بلکہ یہ 2011میں اے این پی حکومت نے لاگو کیا ہے اور افسوس کی اس وقت صوبائی اسمبلی میں بنوں کی نمائندگی موجود ہونے کے باوجود کسی نے اس ظالمانہ ٹیکس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی لیکن ہم پھر بھی اسکے خلاف اسمبلی اجلاس میں آواز اٹھائیں گے انہوں نے کہا کہ کرم تنگی ڈیم سے کیتی ہر کے ذریعے وزیرستان کو پہلے پانی دینے سے بنوں کی زمینیں بنجر ہوں گی لہذا پہلے پانی سٹوریج کا انتظام کیا جائے بصورت دیگر ہم اس فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے اور بنوں کے حقوق کیلئے بھرپور آواز اٹھائیں گے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے ایکسن ایریگیشن زرگل مروت نے کہا کہ پانی تقسیم کے اختیارات ڈپٹی کمشنر بنوں کے پاس ہے کیونکہ وہ کلکٹر ہے اور ڈپٹی کمشنر بنوں میرٹ پر تمام علاقوں کو پانی فراہم کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کررہے ہیں جبکہ نہروں اور ویال پر تجاوزات کے خلاف بھی بلا امتیاز اپریشن شروع کیا جارہا ہے اپریشن سے پہلے قابضین کو دو ہفتے میں تجاوزات رضاکارانہ خاتمے کیلئے نوٹس جاری کیا جائیگا جسکے بعد کسی سے کوئی رعایت نہیں کی جائیگی اسی طرح خراب ٹیوب ویل سالانہ مرمت فنڈ سے مرمت کرے اور ویالوں اور نہروں کی صفائی کا پروگرام بھی شروع کیا جائیگا ۔