وزیرستان میں سابقہ نظام رائج کرنے کا مطالبہ کرنے والے نام نہاد ملکان پولٹیکل انتظامیہ سے ملے ہوئے ہیں.ملک غلام خان،ملک اکبر خان ودیگر

بنوں نیوز(عمران علی)ضلع نارتھ وزیرستان کے قبائلی مشران اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مشران نے وفاقی حکومت اور گورنر خیبر پختونخوا سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ضلع نارتھ وزیرستان کو عملی طور پر کے پی کے میں ضم کرکے ترقیاتی کاموں کا سلسلہ شروع کیا جائے اور جو نام نہا ملکان پھر سے وزیرستان کو پولٹیکل انتظامیہ کی ملی بھگت سے اندھیروں میں دھکیلنے کیلئے کالے قانون چالی ایف سی آر اور پرانے نظام کا مطالبہ کررہے ہیں انکے عزائم کا ناکام بنائیں ،بصورت دیگر 15نومبر کو آل پارٹیز جرگہ طلب کریں گے اور سپریم کورٹ کے سامنے دھرنے کیلئے لائحہ عمل تیار کریں گے میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی این اے40کے امیدوار ملک غلام خان،قومی وطن پارٹی ضلع نارتھ وزیرستان کے صدر ملک اکبر خان متاثرین کمیٹی کے ممبران ملک اصل میر خان اور ملک میرباز خان نے کہا کہ موجودہ گورنر سے ہمیں کسی خیر کی توقع نہیں کیونکہ انہوں نے ابھی تک متاثرین اور وزیرستان کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے کیمپ تک کا دورہ نہیں کیا ہے ضلع نارتھ وزیرستان کے عوام چاہتے ہیں کہ یہاں عدالتی ناظم قائم ہو،ترقیاتی کام ہو،بجلی ہسپتالوں ارو سڑکوں کا نظام ٹھیک ہو امن ہو لیکن چند مفاد پرست اسکی مخالف ت کررہے ہیں اور ہم وزیرستان کو دوبارہ ان چند ملکان کے ایما پر اندھیروں میں دھکیلنے کا موقع نہیں دیں گے انہوں نے ڈپٹی کمشنر اور ایس سی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ تباہ شدہ سکولوں ،دگھروں کی بحالی،معاوضے کی ادائیگی،پانی،بجلی،سڑکوں کا انتظام بحال کرنے پر توجہ دیں اور ضلع نارت وزیرستان میں رشوت کے بغیر ڈوممیسائل سے لیکر بڑے کام تک کوئی کام نہیں ہوتا ،انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور صدر پاکستان سے مطالبہ کیا کہ چونکہ سینٹ،قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا بل منظور ہوچکا ہے لہذا اس پر جلد از جلد عمل درآمد کیا جائے جبکہ اپریشن ضرب عضب کے دوران افغانستان میں آئی ڈی پیز کی پھنسی ہوئی گاڑیوں کی واپسی کو بھی یقینی بنایا جائے مذید کہا کہ ہم جے یو آئی(س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی شہادت کی بھی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ انکے قاتلوں کو گرفاتر کرکے قرار واقعی سزا دی جائے کیونکہ جب اسلام آباد جیسے علاقے میں مولانا سمیع الحق جیسے عالم دین کا قتل ہوتا ہے اور قاتل فرار ہوتے ہیں تو قبائلی علاقوں میں عام آدمی کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں