کینٹ پولیس کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت اور دوسرے نوجوان کے زخمی ہونے کے خلاف اقوام ممش خیل کے مشران کے صبر کا پیمانہ لبریز

بنوں نیوز(عمران علی)کینٹ پولیس کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت اور دوسرے نوجوان کے زخمی ہونے کے خلاف اقوام ممش خیل کے مشران کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور ایس ایچ او ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہونے تک جیل بھرو،ہسپتال بھرو اور ہر قسم کے احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا،جبکہ ایس ایچ او کو ممش خیل کی سرزمین پر گشت کی صورت میں پکڑنے کا اعلان کردیا یہ اعلان اقوام ممش خیل کے مشران کے قومی جرگہ میں کیا گیا جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے صدر جرگہ حاجی بناور شاہ،سید نیک جہان شاہ،حاجی بحت علی شاہ،عمرنیاز خان،رحمدل شاہ،مواز شاہ،سابق ناظم منظور شاہ،شفیع اللہ ودیگر مشران نے کہا کہ کچھ دنوں قبل کینٹ پولیس نے کرکٹ میچ کے دوران فائرنگ کرکے ممش خیل کے ایک نوجوان کو قتل جبکہ دوسرے کو زخمی کردیا جسکے خلاف قوم نے لاش ہسپتال کے سامنے رکھ کر احتجاج کیا اورپولیس کی جانب سے ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی یقین دہانی پر قوم نے احتجاج ختم کیا لیکن پولیس نے تین اہلکاروں کے خلاف319کے تحت مقدمہ درج کرکے مذاق کیا پھر قوم نے ایس ایچ او کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کیلئے جرگہ کیا اور سیشن جج کی ہدایت پر وکلاء،ریاٹاءڑڈ پولیس آفیسر ،ڈی ایس پی اور قوم کے چند مشران پر مشتمل کمیٹی کا اجلاس ڈی آر سی آفس میں طلب کرلیا گیا تاکہ متفقہ طور پر ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جاسکے لیکن ڈی ایس پی نے بیٹے کی بیماری کا کہہ کر کمیٹی میں پیش نہ ہوکر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اب قوم کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری ہائی کورٹ کی زیر نگرانی مقرر کی جائے اور ایس ایچ او سمیت ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل اور اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا جائے مذید کہا کہ کینٹ پولیس نے کرکٹ میچ کے دوران فائرنگ کرکے نوجوان کو قتل جبکہ دوسرے نوجوان کو زخمی کیا اسکے باوجود ایس ایچ او جو ممش خیل میں گشت کرتا ہے جسکی ہم کسی صورت اجازت نہیں دیں گے قوم کو جہاں بھی ایس ایچ او گشت پر نظر آئے اسے پکڑلیں مقرین نے کہا کہ اگر ہماری سرزمین پر کسی نے ایس ایچ او کو نقصان پہنچایا تو ذمہ دار آفسران ہوں گے کیونکہ ایس ایچ او ممش خیل قوم کے نوجوان کا قاتل ہے اور قاتل اپنے دشمن کی سرزمین پر قدم رکھے تو اس کا مطلب کہ وہ غرور کرتا ہے انہوں نے کہا کہ ڈی آئی جی بنوں پختون ہے اور پختون روایات سے واقف ہے اسکے باوجود ممش خیل قوم کے ساتھ اتنا ظلم ہوا لیکن پولیس آفسران کی جانب سے قوم کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے کے بجائے قاتل ایس ایچ او کو تبدیل کرنے بجائے ممش خیل میں گشت کرنے کی اجازت دی ہے لہذا اگر ایس ایچ او کو کینٹ پولیس سٹیشن سے فوری تبدیل کرکے انکے خلاف قتل کا مقدمہ درج نہ کیا گیا تو قوم دو دن وکلاء برادری کا انتظار کریگی اور مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں راست اقدامات سے بھی گریز نہیں کریگی ۔