31اکتوبرکوعمران نیاز ی کو گریبان سے پکڑ کر اسلام آباد سے نکالیں گے،روک سکتے ہو تو درانی کو روک لو،اکرم درانی کی للکار

بنوں (عمران علی ،اینڈ عامر خان )چیئرمین رہبر کمیٹی اور سابق وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کا یہ کہنا کہ اپوزیشن نے وزیر اعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کا مطالبہ نہیں کیا ہے جھوٹ ہے کیونکہ ہمارا پہلا مطالبہ ہی وزیر اعظم کا استعفیٰ ہے اور 31اکتوبر کو ہم سلیکٹڈ وزیر اعظم عمران خان کو گریبان سے پکڑ کر اسلام آباد سے نکالیں گے،ہمارے اہم مطالبوں میں سرفہرست و زیر اعظم کا استعفیٰ،ملک میں نئے انتخابات،فوج کی انتخابی عمل میں عمل دخل کا خاتمہ اور آئین میں اسلامی دفعات کا نہ چھیڑنا ہے،نو اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ملکی وحدت کی نشانی ہے وزیر اعلیٰ محمود خان اپنے قد کے مطابق بات کریں چھوٹ منہ اور بڑی بات انہیں زیب نہیں دیتی عمر میں ان سے بڑا ہوں لیکن ان سے کشتی کرکے گرا سکتا ہوں ،کل آپ نعرے لگارہے تھے کہ روک سکتے ہو تو روک لو آج ہم کہہ رہے ہیں کہ روک سکتے ہو تو روکو،ہمارے کارکن خود کرین اور بلڈوزر ہیں کوئی انہیں اسلام آباد جانے سے نہیں روک سکتا ،سابق وزیر اور سینیٹر حمد اللہ جان کی پاکستانی شہریت ختم کرنا اور انصار الاسلام پر پابندی لگانا حکومتی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے اور دو دن میں ہم حمد اللہ خان کو پاکستانی شناختی کارڈ بناکر دیں گے جے یو آئی رہنما مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں حکومت ایک طرف مذاکرات کا ڈھونگ رچا رہی ہے دوسری طرف ہمارے رہنماءوں اور کارکنوں کو گرفتار کررہی ہے ایسے نہیں چلے گا انصار الاسلام پر لگی پابندی آج ختم کرکے دکھائیں گے بنوں میں پولیس نے جو کرین اور ٹریکٹر تحویل میں لئے ہیں وہ فوری واپس کردیں ورنہ ایک ایک دن کا کرایہ پولیس سے وصول کریں گے ہم نے کسی کو کہہ دیا ہے کہ میرے لئے میڈیکل کالج کی عمارت کو سب جیل قرار نہ دیں ہم سنٹرل جیل میں جائیں گے لیکن اسکی نوبت نہیں آئیگی سلیکٹڈ وزیر اعظم کشمیر کا سودا کرچکے ہیں ہم کشمیر کیلئے سینے پر گولیاں کھانے کیلئے تیار ہیں اگر وقت آیا تو کشمیر جاکر قربانیاں دیں گے،مقبوضہ کشمیر میں خود کو جمہوریت کا چیمپئن کہنے والے گجرات کے قصائی نریندر مودی نے تین مہینوں سے کرفیو لگاکر کشمیریوں کو قید کررکھا ہے شہیدوں کو تدفین اور زخمیوں کو ہسپتال لیجانے کی اجازت نہیں ہے مودی ایک ظالم ڈکٹیٹر ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بنوں میں یوم کشمیر کے سلسلے میں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ریلی میں ایم اہین اے زاہد اکرم درانی، سابق ایم پی اے ملک ریاض خان،ضلعی امیر قاری محمد عبداللہ،جنرل سیکرٹری محمد نیاز خان،سابق ڈسٹرکٹ کونسلر ملک حشمت علی خان،ملک راحت خان ایڈوکیٹ،سابق تحصیل ناظم انجینئر ملک احسان اللہ خان،ملک یوسف اللہ خان منڈان،سیکرٹری اطلاعات مولانا اعزاز اللہ حقانی،سابق تحصیل کونسلر جنان وزیر مسجد حافظ جی کے مہتمم حاجی محمد آیاز خان،جے یو آئی سعودی عرب کے رہنما قاری الیاس،آل ٹرانسپورٹ یونین بنوں کے صدر ملک مقبول زمان،شاہ نیاز وزیر ودیگر بھی شریک تھے اپنے خطاب میں رہبر کمیٹی کے چیئرمین اکرم خان درانی نے مذید کہا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے دھمکی دی تھی کہ جے یو آئی کے کسی کارکن کو اسلام آباد جانے نہیں دیں گے لیکن میں سوات کے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے سوات میں وزیر اعلیٰ کے گھر کے سامنے دھرنا دیا انہوں نے دھمکی دی کہ اگر انصار الاسلام کے کسی کارکن کی قمیص کو کسی نے ہاتھ لگایا تو انکی ہم قمیص اتار دیں گے اور اگر کسی کو میلی آنکھ سے دیکھا تو انکی آنکھیں نکال دیں گے ہ میں نیب اور جیلوں سے ڈرنے والے لوگ نہیں ہم دوسروں کوڈرانے والے لوگ ہیں لیکن ہم پر امن لوگ ہیں ،کوئی ہ میں نہ چھیڑیں اور ابھی تو آغاز ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ;238;انہوں نے کہا کہ 31اکتوبر کو ہم سلیکٹڈ وزیر اعظم عمران نیازی سے وکلاء،ڈاکٹروں ،اساتذہ،تاجروں اور مہنگائی کا ایک ایک بدلہ لیں گے اور اسلام آباد کے وزیر اعظم ہاءوس سے انہیں نکال بھگائیں گے ،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن والوں کو دبانے کیلئے نیب سمیت مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے استعمال کئے جارہے ہیں لیکن عمران نیازی کی اپنی بہن علیمہ خان،جہانگیر ترین،پرویز خٹک،علیم خان ودیگر کرپٹ وزراء کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ ہم میڈیا کی آزادی کیلئے بھی لڑیں گے جبکہ ڈاکٹروں ،تاجروں اور اساتذہ سمیت سرکاری ملازمین کے حقوق کیلئے بھی ان کا ساتھ دیں گے انہوں نے کہا کہ افسو کی بات ہے کہ عمران نیازی نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج انکے وزراء کہہ رہے ہیں کہ نوکریاں مانگ کر شرمندہ نہ کریں اور واپڈا ،ہسپتالوں سمیت اہم قومی اداروں کی نجکاری کی جارہی ہے جسکی ہم مخالفت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی آڑ میں حکومت خود ہم سے این آر او مانگ رہی ہے لیکن ہم اپنے مطالبات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ختم نبوت کے دفاع،جمہوریت کے دفاع اور ملک میں جمہوریت کو اصل حالت میں بحال کرکے عوام کو مہنگائی اور بد امنی سے نجات دلانے کیلئے ہم اپنا آئینی حق استعمال کرتے رہیں گے ۔